26 اکتوبر 2011 - 20:30

آل سعود میں تناؤ شدت اختیار کرگیا ہے / اندرونی جھگڑے میں تازہ مسئلہ / اصل مسئلہ / اوباما کے نائب جزیرة العرب جارہے ہیں / سعودی خاندان کا دشوار مستقبل / ــ مشرقی علاقوں میں بحران نے شدت اختیار کرلی فائرنگ اور گرفتاریوں کے واقعات / سعودی عرب میں جانشینی پر جھگڑا

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سعودی حکام انقلابات کو ناکام بنانے کے لئے مختلف ملکوں میں مداخلت کرتے ہیں، انھوں نے بحرین اور یمن میں فوجی مداخلت کی ہے لیکن دوسروں کے لئے کنواں کھودنے والے سعودیوں کو خود کنویں کا سامنا ہے وہی کنواں جو مطلق العنان سلطنتوں کو بہرصورت نگل لیتا ہے۔ــ آل سعود میں تناؤ شدت اختیار کرگیا ہےبیمار بادشاہ کے ولیعہد کے انتقال کے بعد حکمران سعودی خاندن میں تناؤ نے شدت اختیار کرلی ہے اور سعودی عرب کے مسائل کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی خاندان میں حصول اقتدار کے لئے رسہ کشی میں مزید شدت آئے گی۔عرب تجزیہ نگار "وفیق ابراہیم" نے پیشین گوئی کی کہ ولیعہد سلطان بن عبدالعزیز کے انتقال کے نتائج بہت ہی خطرناک ہونگے کیونکہ شہزادہ سلطان وسیع اختیارات کے مالک تھے اور ان کے بہت وسیع تعلقات تھے اور انھوں نے اپنی طویل سیاسی حیات کے دوران فوج کے سربراہ بھی رہے ہیں اور انٹیلجنس کے ادارے کے سربراہ بھی رہے ہیں۔انھوں نے کہا: سلطان کے بہت سی مغربی حکومتوں اور امریکہ اور برطانیہ کے خفیہ اداروں کے ساتھ وسیع تعلقات تھے جس کی وجہ سے ایک بھاری بھرکم سعودی شخصیت میں بدل گئے تھے اور پھر وہ "سدیری برادران" میں سے بھی تھے اسی لئے ان کی پوزیشن بہت مضبوط تھی کیونکہ سدیری برادران جزیرة العرب کا مقتدر تری دھڑا سمجھے جاتے ہیں۔انھوں نے کہا: سدیریوں کا دھڑا دیگر دھڑوں سے کہیں زیادہ، امریکی خارجہ پالیسی کے تابع ہیں اور جزیرہ نمائے عرب کے میں زیادہ معاشی اور دینی قوت کے حامل ہیں۔ اندرونی جھگڑے میں تازہ مسئلہ عبدالعزيز کے پوتے سمجھتے ہیں کہ ان کے باپ اور چچا بوڑھے ہوچکے ہیں اور جدید علوم سے بے بہرہ ہیں چنانچہ ان کے بچوں کو ان کا جانشین ہونا چاہئے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ان کے پچھلی نسل کے افراد زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کے ادراک سے عاجز ہیں اور ان کی عمریں 80 سال سے تجاوز کرچکی ہیں؛ اسی بنا پر خاندان آل سعود میں نہایت شدید تنازعے کا آغاز ہوچکا ہے اور یہ تنازعہ تین حصوں میں تقسیم ہوتا ہے:1۔ شہزادوں کی پہلی نسل ـ یا بڑے شہزادوں کی نسل ـ کے باقی ماندہ افراد کے درمیان جھگڑا؛ اس نسل کے باقی ماندہ افراد اقتدار کے حصول سے نا امید نظر آرہے ہیں کیونکہ ان لوگوں کے پڑپوتے بھی نوجوان ہوچکے ہيں جبکہ ان کے بیٹے بڑھاپے میں قدم رکھ چکے ہیں۔2۔ پہلی نسل اور دوسری نسل کے درمیا جھگڑا 3- تیسری نسل کے بے شمار شہزادوں کے درمیان جھگڑادریں اثناء کوئی وجہ نہیں ہے کہ چوتھی نسل والے نوجوان شہزادے بھی اس تنازعے میں شامل ہونے سے اجتناب کریں۔ وفیق ابراہیم نے کہا: سعودی سیاست اور اس کی اندرونی اور بیرونی پالیسیاں امریکیوں کی پالیسیوں سے جڑی ہوئی ہیں اور سعودی سیاست کو امریکی سیاست سے کسی بھی صورت میں الگ نہیں کیا جاسکتا چنانچہ امریکی  انتظامیہ بادشاہ اور ولیعہد کے انتخاب میں مداخلت کرتی ہے۔اصل مسئلہسعودیوں نے آج تک ملک کے اندر اٹھنے والی احتجاج کی ہر لہر کو کچلنے کے لئے مختلف بہانوں سے استفادہ کیا ہے اور انہیں شیعہ یا سنی تحریک کا نام دے کر وعاظ السلاطین کے فتووں کے ذریعے کچل دیا ہے لیکن اب صورت حال بدل گئی ہے؛ آل سعود خاندان کمزوری کی طرف مائل ہوچکا ہے اور عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے جس کا ایک نمونہ درج ذیل ہے:

<بمع عربی ویڈیو / سعودی دارالحکومت ریاض میں غربت کی جھلکیاں؛ حقائق فاش کرنے پر تین نوجوان گرفتار>

وفیق ابراہيم نے کہا: آل سعود خاندان کو اندرونی اختلافات کے علاوہ عوامی تحریک کا سامنا ہے اور عوامی احتجاجات میں آنے والے دنوں میں اضافہ ہوگا اور حکومت اس بار عوامی تحریک پر اہل تشیع اور بیرونی قوتوں سے وابستگی کا لیبل نہیں لگا سکے گی کیونکہ اس بار احتجاجات کا سلسلہ ایک علاقے سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے علاقے میں پھیلتا رہے گا اور اس پر قابو پانا مشکل ہوجائے گا۔ــ اوباما کے نائب جزیرة العرب جارہے ہیںاطلاعات کے مطابق امریکی صدر بارک اوباما کے نائب ایک بلند پایہ وفد کی سربراہی میں سعودی عرب آرہے ہيں۔اطلاعات کے مطابق اندرونی انقلاب اور تاریخ کے سب سے بڑے معاشی بحران کا شکار امریکہ کے آفت زدہ صدر جناب اوباما کے نائب ریاض کا دورہ کرنے والے ہیں اور ان کے وفد میں سی آئی کے سربراہ، ریپلکن سینٹر جان مک کین اور کئی اعلی امریکی حکام بھی شامل ہونگے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ چونکہ امریکی ـ سعودی پالیسیاں ایک دوسرے سے متصل اور مرتبط ہیں چنانچہ امریکی اہلکاروں کا یہ دورہ نئے ولیعہد کے انتخاب کے لئے مذاکرات میں شرکت اور اس انتخاب پر اثراندازی کے مقصد سے انجام پارہا ہے۔ــ سعودی خاندان کا دشوار مستقبلاکثر مبصرین کا خیال ہے کہ نائف بن عبدالعزیز ولیعہدی کے لئے مضبوط امیدوار ہیں گوکہ خاندان کے اندر ان کو سخت مخالفتوں کا سامنا ہے حتی کہ حال ہی میں سلطان بن عبدالعزيز کے انتقال کے بعد ایک غیر مصدقہ رپورٹ کے مطابق ایک شہزادے نے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزيز پر پستول تھان کر کہا ہے کہ وہ نائف کو ولیعہد کا عہدہ سونپنے سے باز رہیں۔

دریں اثنا جزیرة العرب کے ایک محقق نے لکھا ہے کہ اگر نائف بن عبدالعزیز ولیعہد کے عہدے پر فائز ہوجائیں تو اس خطے کو عوام کا مستقبل تشدد اور دباؤ سے بھرپور ہوگا۔حمزة الحسن نے کہا ہے کہ سعودی شہزادوں کی نسل بوڑھی ہوچکی اور ان کے درمیان عمر کے لحاظ بہت تھوڑا سا فرق ہے چنانچہ سعودی عرب کی حکومت بیرونی دنیا میں کوئی خاص کردار ادا کرنے سے عاجز رہے گی اور بوڑھے بادشاہوں کے یکے بعد دیگرے انتقال کی وجہ سے اس ملک کی صورت حال تناؤ کا شکار ہوگی اور یہ تناؤ مسلسل بڑھتا رہے گا۔انھو ں نے کہا: شہزادہ نائف سب سے طاقتور ہیں اور بادشاہ سمیت کسی کے پاس بھی اتنے اختیارات نہیں ہیں؛ بادشاہ ایک چوتھائی ملک پر حکومت کرتے ہیں جبکہ نائف تین چوتھائی کے حاکم ہیں۔انھوں نے کہا کہ آل سعود کی حکومت میں جانشینی کا مسئلہ بہت پیچیدہ مسئلہ ہے اور دوسرے بادشاہی نظاموں سے مختلف ہے کیونکہ بادشاہی یہاں بھائی سے بھائی کو منتقل ہوتی ہے اور بچوں کو منتقل نہیں ہوتی۔انھوں نے کہا: آنے والے ولیعہد کے سلسلے میں اختلافات بہت سنجیدہ اور گہرے ہيں اور اکثر شہزادے بھی نائف کی ولایت عہدی کے خلاف ہیں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ نائف بے تحاشا اختیارات اور بہت زیادہ طاقت کے باعث اپنا ارادہ دوسروں پر مسلط کرہی لے گا۔

ــ مشرقی علاقوں میں بحران نے شدت اختیار کرلی فائرنگ اور گرفتاریوں کے واقعات الشرقیہ کے علاقے القطیف میں سعودی پولیس نے بلا اشتعال فائرنگ کرکے پانچ افراد کو زخمی کردیا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ خانداد آل سعود ولیعہد کے انتقال سے پیدا ہونے والے اختلافات کی بنا پر اپنا خاندانی بحران الشرقیہ کے علاقے میں منتقل کرنا چاہتا ہے۔اطلاعات کے مطابق آل سعود کے گماشتوں نے دو الگ واقعات میں پیر کی شب القطیف میں ایک چیک پوسٹ سے فائرنگ کر کے پانچ افراد کو زخمی کردیا ہے۔زخمی ہونے والے شیعہ نوجوانوں میں 19 سالہ محسن علی مغیث، بیس سالہ محمد جعفر العلوان، سترہ سالہ علی جعفر العلوان، تیرہ سالہ صالح مہدی مراراور ایک اور نوجوان شامل ہیں جن کو ابتدائی طبی امداد کے لئے مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا اور گماشتوں میں ان میں سے تین کو اسپتال سے گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ایک نوجوان اسپتال میں ہی پولیس کی حراست میں ہے۔دوسری جانب وسادہ کے علاقے میں گذشتہ شب آل سعود کے گماشتوں نے چیک پوسٹ کے قریب ایک موٹر سائیکل سوار شیعہ نوجوان کو گولیوں کا نشانہ بنایا ہے جس کے سبب وہ شدید زخمی ہو گیا ہے۔پانچواں شیعہ نوجوان چوبیس سالہ نام حسین النترواٹر ڈپارٹمنٹ میں کام کرتا ہے اور اس کو شدید زخمی حالت میں فوجی اسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ آل سعود کی فورسز اہل تشیع کو ہر بہانے سے گولیوں کا نشانہ بناتی ہيں اور لگتا ہے کہ کہ گویا وہ اہل تشیع کو مشتعل کرکے علاقے میں وسیع خونریزي کی منصوبہ بندی کرچکی ہیں تا کہ سعودی خاندان اور ملکی عوام کی توجہ جانشینی کے مسئلے پر پیش آمدہ اختلافات سے ہٹانے کے لئے اس علاقے میں وسیع قتل عام اور فوجی کاروائی کا ارادہ رکھتی ہیں۔دوسری جانب سے العوامیہ نیوز ویب بیس نے سعودی عرب میں حالات کو بحران زدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی گماشتوں نے القدیح کے علاقے میں مہدی عیسی البنای نامی نوجوان کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا ہے نیز ایک القطیف میں البحاری نامی گاؤں کے ایک باشندے محمد آل عفیریت کو بھی گرفتار کرلیا ہے اور گرفتاریوں اور تشدد کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔الشرقیہ کی اہم شخصیات نے آل سعود کے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود کے گماشتے اس علاقے کے عوام کو اشتعال دلا کر انہیں اپنے خلاف لڑنے پر مجبور کرنا چاہتے ہيں تا کہ الشرقیہ کے علاقے میں سرکاری فورسز کو تشدد آمیز کاروائیوں کا جواز مل جائے۔کہا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ ولایت عہدی کے امیدوار وزیر داخلہ نائف بن عبدالعزیز کی زیرنگرانی ہورہا ہے اور انھوں نے اس علاقے میں خاص طور پر فورسز کو جدید ترین ہتھیار، گاڑیاں اور موٹر سائکل فراہم کردیئے ہیں اور انہیں اہل تشیع کو شکار کرنے کا اختیار بھی دیا ہے۔اس میں شک نہیں ہے کہ آل سعود کو ولیعہد کے مسئلے پر پیدا ہونے والے شدید خاندانی بحران کے ساتھ ساتھ بیرونی انقلابات اور اندرونی تحریک اور اسلامی بیداری کا سامنا ہے اور اس بیداری کے آغاز کا اعزاز بھی الشرقیہ کے علاقے کو حاصل ہے اور گذشتہ آٹھ مہینوں سے اس علاقے میں مسلسل مظاہرے ہورہے ہیں لیکن اب کچھ دنوں سے خاموشی ہے تو آل سعود نے اپنا بحران اس علاقے میں لے جانے کی کوششیں شروع کردی ہیں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ آل سعود کو ان شرارتوں سے بھی پشیمان ہونا پڑے گا۔

ــ سعودی عرب میں جانشینی پر جھگڑاولیعہد کے انتقال کے بعد "بیعت بورڈ" کو نئی چیلنجوں کا سامنا ہے اور اس کو نئے ولیعہد کر تعین میں مشکل پڑ رہی ہے۔ سلطان بن عبدالعزیز ایسے حال میں انتقال کرگئے ہیں کہ علاقے میں مغرب اور صہیونیت کے کٹھ پتلی حکام یکی بعد دیگرے زوال پذیر ہورہے ہیں۔78 سالہ نائف کو ولیعہدی ملنے کے امکانات زیادہ ہیں جبکہ ان کے بھائی سلمان بھی امیدوار ہیں جو ولیعہد نہ بننے کی صورت میں وزارت دفاع کا قلمدان سنبھالنے کی کوشش کریں گے جو اس سے پہلے مرحوم ولیعہد کے پاس تھا گوکہ مرحوم ولیعہد کے بیٹے اور نائب وزیر دفاع خالد بن سلطان کو وزارت دفاع کا عہدہ ملنے کا امکان زیادہ ہے۔خاندان میں صرف ولیعہدی کا جھگڑا نہيں چل رہا ہے بلکہ اہم مناصب پر قبضے کی دوڑ بھی جاری ہے اور ہر شہزادہ ایک قدم آگے بڑھنے کے خواب د